حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے صوبہ مرکزی میں نمائندہ ولی فقیہ آیت اللہ قربان علی دری نجف آبادی نے ’’سورۂ نساء میں تدبر‘‘ کے عنوان سے منعقدہ کانفرنس میں خطاب کے دوران شہداء کرام کو خراج عقیدت پیش کیا۔
انہوں نے کہا: بچوں کی تربیت اور معاشرے کی مستقبل کی نسل کی تعمیر میں سب سے اہم کردار ماں کا ہے، اس لیے معاشرے میں مقامِ مادری کے تقدس اور عظمت پر خصوصی توجہ دی جانی چاہیے۔
آیت اللہ دری نجف آبادی نے مزید کہا: شہداء کے معزز خاندان بالخصوص شہداء کی مائیں اور بیویاں اسلامی معاشرے کے لیے قیمتی نمونے ہیں۔ انسان اپنی شخصیت اور تربیت کا ایک اہم حصہ خاندان سے حاصل کرتا ہے اور اس دوران حمل سے لے کر زندگی کے ابتدائی برسوں تک ماں کا کردار باپ کی نسبت کہیں زیادہ نمایاں ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا: بچے کی تربیت میں ماں کا حصہ باپ سے کہیں زیادہ ہے۔ ماں کو چاہیے کہ وہ اپنے بچے کی تربیت ایمان، اخلاق، معرفت، تقویٰ اور فضیلت کے ساتھ کرے۔ اگر کوئی بچہ ایک نیک اور صالح ماں کی آغوش اور صحت مند ماحول میں پروان چڑھے تو اس کی زندگی کا راستہ اور مستقبل بھی اسی تربیت سے متاثر ہوگا۔
صوبہ مرکزی میں نمائندہ ولی فقیہ نے امیرالمؤمنین علیہ السلام کے نہج البلاغہ کے خطبہ 94 میں خاندانِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقام سے متعلق ارشادات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: اللہ تعالیٰ نے انبیاء کو بہترین مقامات اور پاکیزہ رحموں میں قرار دیا اور یہ امر انسانوں کی عظیم شخصیات کی تشکیل میں ماں اور خاندانی ماحول کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا: انسان اور دیگر مخلوقات کے درمیان فرق یہ ہے کہ انسان کی حقیقی قدر و منزلت ایمان، معرفت، عقلانیت، تقویٰ اور اللہ تعالیٰ سے محبت میں ہے۔ لہٰذا معاشرے کو سب سے بڑھ کر تربیت یافتہ اور اہلِ ایمان انسانوں کی ضرورت ہے۔









آپ کا تبصرہ